كِتَابُ الْمَشَايِخُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ إِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا كَانَ بِسَرْغَ اسْتَقْبَلَهُ النَّاسُ وَقَدِ اشْتَعَلَتِ الْأَرْضُ بِالْوَبَاءِ، فَأَشَارُوا عَلَيْهِ بِالرُّجُوعِ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبًا، فَجَاءَ فَقَالَ: أَنَا أُحَدِّثُكُمْ، فَحَدَّثَ مِثْلَ أُسَامَةَ، فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
کتاب
مشائخ کی عبد الرحمن سے روایت
زہری نے بیان کیا، کہا: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے، جب ’’سرغ‘‘ مقام پر پہنچے، لوگوں نے ان کا استقبال کیا اور زمین وباء سے بھڑک چکی تھی، لوگوں نے انہیں واپس جانے کے لیے اشارۃً کہا، اس وقت حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے، پھر وہ آگئے اور کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، پھر انہوں نے اسامہ کی طرح حدیث بیان کی تو امیر عمر رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔
تخریج : تخریج گزر چکی ہے۔