كِتَابُ الْمَشَايِخُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ، أَنَّ رَجُلًا، مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ: كَانَ كَعْبُ الْأَحْبَارُ يَقُصُّ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: ((لَا يَقُصُّ إِلَّا مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ))، قَالَ: فَأَتَى كَعْبٌ، فَقِيلَ لَهُ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا فَتَرَكَ الْقَصَصَ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاوِيَةَ أَمَرَهُ بِالْقَصَصِ، فَاسْتَحَلَّ ذَاكَ بِذَاكَ
کتاب
مشائخ کی عبد الرحمن سے روایت
کعب الاحبار قصے بیان کرتے تھے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: قصے یا تو جسے حکم دیا جائے وہ بیان کرتا ہے، یا جو دکھلاوا کرتا ہے۔ انہوں نے (یعنی راوی) کہا کعب آئے اور انہیں کہا گیا، تیری ماں تجھے گم پائے یہ تو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایسا ایسا کہہ رہے تھے، اس کے بعد انہوں نے قصے بیان کرنے کا عمل چھوڑ دیا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا تو بایں وجہ انہوں نے (قصوں کو بیان کرنا ) حلال سمجھا۔
تشریح :
اس حدیث سے درج ذیل مسائل کا اثبات ہوا:
1۔....انبیائے کرام علیہم السلام اور سلف صالحین کے واقعات بیان کرکے عوام کو وعظ و نصیحت کرنا اہم منصب ہے۔
2۔....اسلامی حکومت میں خطبہ دینا حکمران کا حق ہے۔ مختلف شہروں میں اپنے نائب (گورنر اور مقامی حکام) مقرر کرنا بھی اس کا فرض ہے جو اپنے اپنے مقام پر عوام کی دینی راہنمائی کریں اور انتظامی معاملات کی نگرانی اور راہنمائی بھی کریں۔
3۔....شرعی امیر کی اجازت کے بغیر وعظ کرنے کا مقصد اپنی علمیت کا اظہار ہوسکتا ہے جو ریاکاری ہے۔
4۔....جب اسلامی سلطنت قائم نہ ہو تو ہر عالم کی دینی راہنمائی کا ذمہ دار ہے لیکن دین کے علم سے بے بہرہ شخص محض اپنی قوت بیان کرکے زور پر عوام کا قائد بننے کی کوشش کرے گا تو گمراہی پھیلانے کا باعث ہوگا۔
تخریج :
انظر ما قبله۔
اس حدیث سے درج ذیل مسائل کا اثبات ہوا:
1۔....انبیائے کرام علیہم السلام اور سلف صالحین کے واقعات بیان کرکے عوام کو وعظ و نصیحت کرنا اہم منصب ہے۔
2۔....اسلامی حکومت میں خطبہ دینا حکمران کا حق ہے۔ مختلف شہروں میں اپنے نائب (گورنر اور مقامی حکام) مقرر کرنا بھی اس کا فرض ہے جو اپنے اپنے مقام پر عوام کی دینی راہنمائی کریں اور انتظامی معاملات کی نگرانی اور راہنمائی بھی کریں۔
3۔....شرعی امیر کی اجازت کے بغیر وعظ کرنے کا مقصد اپنی علمیت کا اظہار ہوسکتا ہے جو ریاکاری ہے۔
4۔....جب اسلامی سلطنت قائم نہ ہو تو ہر عالم کی دینی راہنمائی کا ذمہ دار ہے لیکن دین کے علم سے بے بہرہ شخص محض اپنی قوت بیان کرکے زور پر عوام کا قائد بننے کی کوشش کرے گا تو گمراہی پھیلانے کا باعث ہوگا۔