مسند عبد الرحمن بن عوف - حدیث 47

كِتَابُ الْمَشَايِخُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو الْأَسْوَدِ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، زَارَ مَرِيضًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَقَالَ: أَذَكَرُ كَلَامًا، قَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم إِذَا عَادَ مَرِيضًا: ((اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ مَا يَجِدُ وَآجِرْهُ فِيمَا ابْتَلَيْتَهُ))

ترجمہ مسند عبد الرحمن بن عوف - حدیث 47

کتاب مشائخ کی عبد الرحمن سے روایت ثقہ راوی نے بیان کیا کہ سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی مریض کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ (راوی نے کہا) تو انہوں نے کہا: میں ایک کلام ذکر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس طرح نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مریض کی عیادت کرتے وقت دعائیہ کلمات کہتے تھے: ’’اَللّٰهُمَّ اَذْهِبْ عَنْهُ مَا یَجِدُ وَآجِرْهُ فِیْمَا ابْتَلَیْتَهٗ‘‘ ’’اے اللہ! اسے جو (بیماری) ہے اسے دور کردے اور جس آزمائش میں تو نے اسے ڈالا ہے اس سے نجات دے۔‘‘
تشریح : اس حدیث سے درج ذیل مسائل ثابت ہوتے ہیں : 1۔....’’زَارَ مَرِیْضًا‘‘ مریض کی تیمار داری کرنا۔ مریض کی تیمار داری کرنا اس کا حق ہے اور یہ عمل بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں۔ جب اسے ملے اس پر سلام کہے اور جب دعوت دے تو اسے قبول کرے۔ جب نصیحت طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کرے اور جب چھینک مارے اور الحمد للہ کہے تو اس کا جواب دے، اور جب بیمار ہو تو اس کی تیمار داری کرے، اور جب وہ فوت ہو تو اس کے پیچھے جائے (نماز جنازہ ادا کرے)۔( صحیح مسلم، کتاب السلام، رقم : ۲۱۶۲، سنن ترمذي، رقم : ۲۷۳۷، مسند أحمد : ۲؍۳۷۲، صحیح ابن حبان، رقم : ۲۴۲، الأدب المفرد للبخاري، رقم : ۹۲۵۔) اس کا صلہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا))( سنن ترمذي، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی عیادۃ المریض، رقم : ۹۶۹۔) ’’جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے، آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے تم خوش رہو تمہارا چلنا خوش گوار ہو اور تم نے جنت میں ٹھکانا بنالیا۔‘‘ 2۔....’’لَا تَقُوْلُوْا هٰکَذَا، وَلٰکِنْ قُوْلُوْا کَمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ‘‘ سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بالکتاب والسنۃ واضح ہوتا ہے۔ 3۔....مریض کے پاس دعا پڑھنا مسنون عمل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو کوئی بیمار ہوجاتا اس کی عیادت فرمایا کرتے، عیادت کے وقت مریض کے قریب بیٹھ جاتے، بیمار کو تسلی دیتے ’’لَا بَأْسَ طَهُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ‘‘ فرمایا کرتے تھے۔( زاد المعاد : ۲؍۵۔)
تخریج : اسنادہ ضعیف فیه رجل مبهم، المطالب العالیة، ق : ۸۴؍أ۔ اس حدیث سے درج ذیل مسائل ثابت ہوتے ہیں : 1۔....’’زَارَ مَرِیْضًا‘‘ مریض کی تیمار داری کرنا۔ مریض کی تیمار داری کرنا اس کا حق ہے اور یہ عمل بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں۔ جب اسے ملے اس پر سلام کہے اور جب دعوت دے تو اسے قبول کرے۔ جب نصیحت طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کرے اور جب چھینک مارے اور الحمد للہ کہے تو اس کا جواب دے، اور جب بیمار ہو تو اس کی تیمار داری کرے، اور جب وہ فوت ہو تو اس کے پیچھے جائے (نماز جنازہ ادا کرے)۔( صحیح مسلم، کتاب السلام، رقم : ۲۱۶۲، سنن ترمذي، رقم : ۲۷۳۷، مسند أحمد : ۲؍۳۷۲، صحیح ابن حبان، رقم : ۲۴۲، الأدب المفرد للبخاري، رقم : ۹۲۵۔) اس کا صلہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا))( سنن ترمذي، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی عیادۃ المریض، رقم : ۹۶۹۔) ’’جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے، آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے تم خوش رہو تمہارا چلنا خوش گوار ہو اور تم نے جنت میں ٹھکانا بنالیا۔‘‘ 2۔....’’لَا تَقُوْلُوْا هٰکَذَا، وَلٰکِنْ قُوْلُوْا کَمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ‘‘ سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بالکتاب والسنۃ واضح ہوتا ہے۔ 3۔....مریض کے پاس دعا پڑھنا مسنون عمل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو کوئی بیمار ہوجاتا اس کی عیادت فرمایا کرتے، عیادت کے وقت مریض کے قریب بیٹھ جاتے، بیمار کو تسلی دیتے ’’لَا بَأْسَ طَهُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ‘‘ فرمایا کرتے تھے۔( زاد المعاد : ۲؍۵۔)