كتاب الجمعة باب الجمعة صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَمَا هُوَ قَائمٌ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرينَ الأَوَّلَينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هذِهِ قَالَ: إِنِّي شُغِلْتُ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ التَّأْذينَ، فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: جمعہ کا بیان
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی اصحاب مہاجرین میں سے ایک بزرگ تشریف لائے (یعنی سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا بھلا یہ کون سا وقت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں مشغول ہو گیا تھا اور گھر واپس آتے ہی اذان کی آواز سنی اس لئے میں وضو سے زیادہ اور کچھ (غسل) نہ کر سکا سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا (صرف) وضو ہی؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لئے حکم فرماتے تھے۔
تشریح :
من المہاجرین الاولین، یعنی جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا بیعت رضوان میں شامل تھے یا جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ اور رجل سے مراد سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مرتبؒ)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 2 باب فضل الغسل يوم الجمعة
من المہاجرین الاولین، یعنی جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا بیعت رضوان میں شامل تھے یا جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ اور رجل سے مراد سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مرتبؒ)