كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الليل وأن الوتر ركعة، وأن الركعة صلاة صحيحة صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وانْتَهى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
باب: نماز شب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی رکعات کی تعداد، ایک وتر کا بیان اور ایک رکعت صحیح نماز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی ہے اور اخیر میں آپ کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔
تشریح :
اس کی مزید تفسیر وہ حدیث کرتی ہے جو ابو داؤد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ میں بھی وتر پڑھے اور درمیان میں بھی اور آخر میں بھی۔ لیکن موت کے قریب سحری کے وقت پڑھتے تھے۔ یہاں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آپ کا ابتدائی اور درمیانی وقت کا عمل جواز کے بیان کے لیے ہو اور آخر وقت کا عمل فضیلت بتانے کے لیے ہو۔ (مرتبؒ)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 14 كتاب الوتر: 2 باب ساعات الوتر
اس کی مزید تفسیر وہ حدیث کرتی ہے جو ابو داؤد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ میں بھی وتر پڑھے اور درمیان میں بھی اور آخر میں بھی۔ لیکن موت کے قریب سحری کے وقت پڑھتے تھے۔ یہاں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آپ کا ابتدائی اور درمیانی وقت کا عمل جواز کے بیان کے لیے ہو اور آخر وقت کا عمل فضیلت بتانے کے لیے ہو۔ (مرتبؒ)