كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب استحباب صلاة الضحى وأن أقلها ركعتان صحيح حديث أُمِّ هَانِيءٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَنْبَأَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحى غَيْرُ أُمِّ هَانِيءٍ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صلاةً أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
نماز چاشت کا بیان اور یہ کم از کم دو رکعت ہے
سیّدنا ابن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ نے آٹھ رکعات پڑھی تھیں میں نے آپ کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 12 باب من تطوع في السفر في غير دبر الصلوات وقبلها