كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب جواز الانصراف من الصلاة عن اليمين والشمال صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لاَ يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلاَتِهِ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ
کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
باب: نماز پڑھ کے دائیں بائیں دونوں طرف مڑنے کا بیان
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ (سلام پھیرنے کے بعد) داہنی طرف ہی لوٹنا اپنے لئے ضروری قرار دے لے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔
تشریح :
جب مباح کام لازم قرار دینے سے شیطان کا حصہ سمجھا جائے تو جو کام مکروہ یا بدعت ہے اس کو کوئی لازم قرار دے لے اور اس کے نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ستائے تو اس پر شیطان کا کیا تسلط ہے، سمجھ لینا چاہیے۔(راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 195 باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال
جب مباح کام لازم قرار دینے سے شیطان کا حصہ سمجھا جائے تو جو کام مکروہ یا بدعت ہے اس کو کوئی لازم قرار دے لے اور اس کے نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ستائے تو اس پر شیطان کا کیا تسلط ہے، سمجھ لینا چاہیے۔(راز)