كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب جواز صلاة النافلة على الدابة في السفر حيث توجهت صحيح حديث عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْتُ تَوَجَّهَتْ بِهِ
کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
باب: سواری پر نفل نماز پڑھنا چاہے اس کا رخ کدھر بھی ہو
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے وہ جدھر آپ کو لے جاتی ادھر ہی سہی۔
تشریح :
راوي حدیث: سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سابقون اولون میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی بیوی لیلیٰ بنت ابی خیثمہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ بدر اور دیگر تمام غزوات میں شامل ہوئے۔خطاب نے انہیں متبنی بنا لیاتھا۔ جنگ جابیہ میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا علم ان کے ہاتھ میں تھا۔متعدد احادیث کے راوی ہیں۔ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے چند دن بعد ۳۵ ہجری کو وفات پائی۔
تخریج :
أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 12 باب تطوع في السفر في غير دبر الصلاة وقبلها
راوي حدیث: سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سابقون اولون میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی بیوی لیلیٰ بنت ابی خیثمہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ بدر اور دیگر تمام غزوات میں شامل ہوئے۔خطاب نے انہیں متبنی بنا لیاتھا۔ جنگ جابیہ میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا علم ان کے ہاتھ میں تھا۔متعدد احادیث کے راوی ہیں۔ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے چند دن بعد ۳۵ ہجری کو وفات پائی۔