كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب الصلاة في الرحال في المطر صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ فَلاَ تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ، قُلْ صَلُّوا فِي بُيوتِكُمْ فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا، قَالَ: فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالدَّحْضِ
کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے موذن سے ایک دفعہ بارش کے دن کہا کہ اشہد ان محمد رسول اللہ کے بعد حی علی الصلوٰۃ(نماز کی طرف آؤ) نہ کہنا بلکہ یہ کہنا کہ صلوا فی بیوتکم (اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو) لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی طرح مجھ سے بہتر انسان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کیا تھا بے شک جمعہ فرض ہے اور میں مکروہ جانتا ہوں کہ تمہیں گھروں سے نکال کر مٹی اور کیچڑ پھسلوان میں چلاؤں۔
تشریح :
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکا مطلب یہ تھا کہ بے شک جمعہ فرض ہے مگر حالت بارش میں یہ عزیمت رخصت سے بدل جاتی ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس رخصت سے تم کو فائدہ پہنچاؤں کہ تم کیچڑ میں پھسلنے اور بارش میں بھیگنے سے بچ جاؤ۔(راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 14 باب الرخصة لمن لم يحضر الجمعة في المطر
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکا مطلب یہ تھا کہ بے شک جمعہ فرض ہے مگر حالت بارش میں یہ عزیمت رخصت سے بدل جاتی ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس رخصت سے تم کو فائدہ پہنچاؤں کہ تم کیچڑ میں پھسلنے اور بارش میں بھیگنے سے بچ جاؤ۔(راز)