كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب الصلاة في الرحال في المطر صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحِ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ، يَقُولُ: أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
کتاب: مسافروں کی نماز اور اس کے قصر کا بیان
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان
حضرت نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے ایک ٹھنڈی اور برسات کی رات میں اذان دی پھر یوں پکار کر کہہ دیا کہ لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی و بارش کی راتوں میں موذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔
تشریح :
حدیث میں مذکور برد سے سخت سردی مراد ہے، مشقت کے یکساں موجود ہونے کی وجہ سے سخت گرمی بھی سردی کے حکم میں ہے۔ پھر بارش خواہ دن کو ہو یا رات کو حکم برابر ہے۔ لیکن آندھی تیز ہونے اور رات کے وقت چلنے کی شرط لگائی گئی ہے کیونکہ دن کی نسبت رات میں آندھی سے مشقت بڑھ جاتی ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے مشقت کو عموم پر محلول کرتے ہوئے آندھی کو بارش پر قیاس کیا ہے۔ گھروں میں نماز کی رخصت عام ہے خواہ اکیلے ادا ہو یا جماعت اگرچہ اکیلے کا امکان زیادہ ہے کیونکہ باجماعت نماز کا تعلق تو مسجد سے ہے۔
تخریج :
أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 40 باب الرخصة في المطر والعلة، أن يصلي في رحله
حدیث میں مذکور برد سے سخت سردی مراد ہے، مشقت کے یکساں موجود ہونے کی وجہ سے سخت گرمی بھی سردی کے حکم میں ہے۔ پھر بارش خواہ دن کو ہو یا رات کو حکم برابر ہے۔ لیکن آندھی تیز ہونے اور رات کے وقت چلنے کی شرط لگائی گئی ہے کیونکہ دن کی نسبت رات میں آندھی سے مشقت بڑھ جاتی ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے مشقت کو عموم پر محلول کرتے ہوئے آندھی کو بارش پر قیاس کیا ہے۔ گھروں میں نماز کی رخصت عام ہے خواہ اکیلے ادا ہو یا جماعت اگرچہ اکیلے کا امکان زیادہ ہے کیونکہ باجماعت نماز کا تعلق تو مسجد سے ہے۔