اللولؤ والمرجان - حدیث 392

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب استحباب القنوت في جميع الصلاة إِذا نزلت بالمسلمين نازلة صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَدْعُو لِرِجَالٍ فَيُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائهِمْ؛ فَيَقُولُ: اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيد بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ؛ اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِى يُوسُفَ وَأَهْلُ الْمَشْرِقِ يَوْمَئِذٍ مِنْ مُضَرَ مُخَالِفُونَ لَهُ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 392

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو بلند آواز سے قنوت پڑھنا مستحب ہے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سر مبارک (رکوع سے) اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہہ کر چند لوگوں کے لئے دعائیں کرتے اور نام لے لے کر فرماتے یا اللہ ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور تمام کمزور مسلمانوں کو (کفار سے) نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر کے لوگوں کو سختی کے ساتھ کچل دے اور ان پر ایسا قحط مسلط کر جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آیا تھا ان دنوں مشرق والے قبیلہ مضر کے لوگ مخالفین میں تھے۔
تشریح : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نما زمیں دعا یا بددعا کسی مستحق حقیقی کا نام لے کر بھی کی جا سکتی ہے۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 128 باب يهوى بالتكبير حين يسجد اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نما زمیں دعا یا بددعا کسی مستحق حقیقی کا نام لے کر بھی کی جا سکتی ہے۔ (راز)