كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب استحباب التبكير بالصبح في أول وقتها وهو التغليس وبيان قدر القراءة فيها صحيح حديث أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، وَقَدْ سُئِلَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ، وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ (قَالَ الرَّاوِي عَنْ أَبِي برْزَةَ: وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ) وَلاَ يُبَالِي بِتَأخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ؛ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب: صبح کی نماز کے لیے سویرے جانے اور اس کی قراء ت کا بیان
سیّدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارہ تک ایک شخص چلا جاتا لیکن سورج اب بھی باقی رہتا مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لئے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو نا پسند کرتے تھے جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 104 باب القراءة في الفجر