اللولؤ والمرجان - حدیث 378

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب استحباب التبكير بالصبح في أول وقتها وهو التغليس وبيان قدر القراءة فيها صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا: إِذَا رَآهُمُ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَوْا أَخَّرَ؛ وَالصُّبْحَ كَانُوا، أَوْ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيها بِغَلَسٍ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 378

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: صبح کی نماز کے لیے سویرے جانے اور اس کی قراء ت کا بیان سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھایا کرتے تھے ابھی سورج صاف اور روشن ہوتا تھا تو نماز عصر پڑھاتے نماز مغرب وقت آتے ہی پڑھاتے اور نماز عشاء کو کبھی جلدی پڑھاتے اور کبھی دیر سے جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھا دیتے اور اگر لوگ جلدی جمع نہ ہوتے تو نماز میں دیر کرتے (اور لوگوں کا انتظار کرتے) اور صبح کی نماز صحابہ یا (یہ کہا کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 27 باب وقت الفجر