كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب استحباب التبكير بالصبح في أول وقتها وهو التغليس وبيان قدر القراءة فيها صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّ نِسَاءُ الْمُوْمنَاتِ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةَ الْفَجْرِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ حِينَ يَقْضِينَ الصَّلاَةَ لاَ يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ
کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب: صبح کی نماز کے لیے سویرے جانے اور اس کی قراء ت کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ کے ساتھ نماز فجر پڑھنے چادروں میں لپٹ کر آتی تھیں پھر نماز سے فارغ ہو کر جب اپنے گھروں کو واپس ہوتیں تو کوئی انہیں اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں سکتا تھا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 27 باب وقت الفجر