كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب وقت العشاء وتأخيرها صحيح حديث أَبِي مَوسى قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فيِ السَّفِينَةِ نُزُولاً فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَا وَأَصْحَابِي، وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فيِ بَعْضِ أَمْرِهِ فَأَعْتَمَ بِالصَّلاَةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ، قَالَ لِمَنْ حَضَرهُ: عَلَى رِسْلِكُمْ، أَبْشِرُوا، إِنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَلِّي هذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ، أَوْ قَالَ: مَا صَلَّى هذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ قَالَ أَبُو مُوسى، فَفَرِحْنَا بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان
سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جو کشتی میں میرے ساتھ (حبشہ) آئے تھے بقیع بطحان میں قیام کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف رکھتے تھے ہم میں سے کوئی نہ کوئی عشاء کی نماز میں روزانہ باری مقرر کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اتفاق سے میں اور میرے ایک ساتھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے (کسی ملی معاملہ میں آپ اور سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گفتگو کر رہے تھے) جس کی وجہ سے نماز میں دیر ہو گئی اور تقریبا آدھی رات گذر گئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی نماز پوری کر چکے تو حاضرین سے فرمایا کہ اپنی جگہ پر وقار کے ساتھ بیٹھے رہو اور ایک خوشخبری سنو تمہارے سوا دنیا میں کوئی بھی آدمی ایسا نہیں جو اس وقت نماز پڑھتا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تمہارے سوا اس وقت کسی (امت) نے بھی نماز نہیں پڑھی تھی سیّدنا ابو موسیٰ نے کہا پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر بہت ہی خوش ہو کر لوٹے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 22 باب فضل العِشاء