اللولؤ والمرجان - حدیث 372

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب وقت العشاء وتأخيرها صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، وَذلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى قَالَ عُمَرُ: نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ؛ فَخَرَجَ، فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ: مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرَكُمْ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 372

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے پس آپ تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 9 كتاب المواقيت 22 فضل العشاء