اللولؤ والمرجان - حدیث 371

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب بيان أن أول وقت المغرب عند غروب الشمس صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 371

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: مغرب کا اول وقت غروب شمس سے ہے سیّدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے (اور تیر اندازی کرتے تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔
تشریح : اس کی وضاحت وہ حدیث کرتی ہے جو علی بن بلال کے طریق سے مسند احمد میں حسن سند سے مروی ہے۔ وہ انصار کے لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے پھر واپس آتے تو تیر اندازی کرتے حتیٰ کہ گھر واپس آجاتے۔ جبکہ تیروں کے گرنے کے مقامات ہم سے مخفی نہیں رہتے تھے۔ اس حدیث میں نماز مغرب جلدی پڑھنے اور اسے لمبا نہ کرنے پر دلیل ہے۔ (مرتبؒ)
تخریج : أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 18 باب وقت المغرب اس کی وضاحت وہ حدیث کرتی ہے جو علی بن بلال کے طریق سے مسند احمد میں حسن سند سے مروی ہے۔ وہ انصار کے لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے پھر واپس آتے تو تیر اندازی کرتے حتیٰ کہ گھر واپس آجاتے۔ جبکہ تیروں کے گرنے کے مقامات ہم سے مخفی نہیں رہتے تھے۔ اس حدیث میں نماز مغرب جلدی پڑھنے اور اسے لمبا نہ کرنے پر دلیل ہے۔ (مرتبؒ)