كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب التغليظ في تفويت صلاة العصر صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ
کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب: نماز عصر فوت ہونے کے نقصان کا بیان
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی نماز عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال لٹ گیا۔
تشریح :
جس شخص کی عصر کی نماز رہ جائے تو گویا اس سے اس کا اہل اور مال سلب کر لیا گیا ہے۔ اور وہ تنہا رہ گیا ہے تو جس طرح وہ اہل وعیال اور مال کے چھن جانے سے ڈرتا ہے اسی طرح اسے عصر کی نماز کے فوت ہونے سے بچنا چاہیے۔ (مرتبؒ)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 14 باب إثم من فاتته العصر
جس شخص کی عصر کی نماز رہ جائے تو گویا اس سے اس کا اہل اور مال سلب کر لیا گیا ہے۔ اور وہ تنہا رہ گیا ہے تو جس طرح وہ اہل وعیال اور مال کے چھن جانے سے ڈرتا ہے اسی طرح اسے عصر کی نماز کے فوت ہونے سے بچنا چاہیے۔ (مرتبؒ)