كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب استحباب الإبراد بالظهر في شدة الحر لمن يمضي إلى جماعة ويناله الحر في طريقه صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَقَالَ: أَبْرِدْ أَبْرِدْ أَوْ قَالَ: انْتَظِرْ انْتَظِرْ، وَقَالَ: شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ
کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب: گرمی میں جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت پڑھنا مستحب ہے اور راستے میں شدید گرمی محسوس ہوتی ہو
سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موذن (سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ ) نے ظہر کی اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا کر ٹھنڈا کر یا یہ فرمایا کہ انتظار کر انتظار کر اور فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی آگ کی بھاپ سے ہے اس لئے جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو (پھر ظہر کی اذان اس وقت کہی گئی) جب ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لئے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 9 باب الإبراد بالظهر في شدة الحر