اللولؤ والمرجان - حدیث 351

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب استحباب إِتيان الصلاة بوقار وسكينة والنهي عن إِتيانها سعيًا صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلاَةِ، قَالَ: فَلاَ تَفْعَلُوا، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاَةَ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 351

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: نماز کے لیے وقار و سکون سے آنا مستحب اور دوڑ کر آنا ممنوع ہے سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں تھے آپ نے کچھ لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سنی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا قصہ ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نماز کے لئے جلدی کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو بلکہ جب تم نماز کے لئے آؤ تو وقار اور سکون کو ملحوظ رکھو نماز کا جو حصہ پاؤ اسے پڑھو اور جو رہ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 20 باب قول الرجل فاتتنا الصلاة