اللولؤ والمرجان - حدیث 337

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب السهو في الصلاة والسجود له صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدِّمِ الْمَسْجِدِ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا؛ وَفِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلاَةُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ كَان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنَسِيت أَمْ قَصُرَتْ، فَقَالَ: لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تَقْصُرْ، قَالُوا: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 337

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا اس کے بعد آپ مسجد کے آگے کے حصہ یعنی دالان میں ایک لکڑی پر سہارا لے کر کھڑے ہو گئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا حاضرین میں سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے مگر بات کرنے سے ڈرے اور جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے صحابہ نے آپس میں کہا کہ شاید نماز میں کمی ہو گئی ہے (اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز چار کے بجائے صرف دو ہی رکعت پڑھائی ہیں) حاضرین میں ایک صحابی تھے جنہیں آپ ذوالیدین (لمبے ہاتھوں والا) کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی نماز کی رکعات کم ہو گئیں ہیں یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعات کم ہوئی ہیں صحابہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ آپ بھول گئے ہیں چنانچہ آپ نے یاد کر کے فرمایا کہ ذوالیدین نے صحیح کہا ہے پھر آپ کھڑے ہوئے اور دو رکعات اور پڑھائیں پھر سلام پھیر اور تکبیر کہہ کر سجدہ (سہو) میں گئے نماز کے سجدہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر پھر سجدہ میں گئے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے بھی لمبا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 45 باب ما يجوز من ذكر الناس