اللولؤ والمرجان - حدیث 334

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب السهو في الصلاة والسجود له صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ الأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ ْالأَذَانُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى، ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 334

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے اذان ہوتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تا کہ اذان نہ سنے جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے پھر جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ پڑتا ہے لیکن اقامت ختم ہوتے ہی پھر آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کر اس طرح اسے وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس کے ذہن میں نہیں تھیں لیکن دوسری طرف نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعات اس نے پڑھی ہیں اس لئے اگر کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار تو بیٹھے ہی بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 22 كتاب السهو: 6 باب إذا لم يدرِكم صلى ثلاثًا أو أربعًا سجد سجدتين وهو جالس