كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب نهي من أكل ثومًا أو بصلاً أو كراثًا أو نحوها صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا
کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا اسی طرح کی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں آنا ممنوع ہے
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر کہا تھا کہ جو شخص اس درخت یعنی لہسن کو کھائے ہوئے ہو، اسے ہماری مسجد میں نہ آنا چاہیے۔
تشریح :
کچا لہسن یا کچا پیاز کھانا مراد ہے کہ اس کے کھانے سے منہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔ سگریٹ نوشوں کے لیے بھی لازم ہے کہ منہ صاف کر کے بدبودور کر کے مسواک سے منہ کو رگڑ رگڑ کر مسجد میں آئیں۔ ان بدبودار چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لہسن اور پیاز کو پکا کر قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 160 باب ما جاء في الثوم النِّيِّ والبصل والكراث
کچا لہسن یا کچا پیاز کھانا مراد ہے کہ اس کے کھانے سے منہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔ سگریٹ نوشوں کے لیے بھی لازم ہے کہ منہ صاف کر کے بدبودور کر کے مسواک سے منہ کو رگڑ رگڑ کر مسجد میں آئیں۔ ان بدبودار چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لہسن اور پیاز کو پکا کر قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ (راز)