اللولؤ والمرجان - حدیث 330

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَت الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ، وَلاَ يَعْجَلْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 330

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: کھانے کی موجودگی میں نماز پڑھنا مکروہ ہے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا شام کا کھانا تیار ہو چکا ہو اور تکبیر بھی کہی جا چکی ہو تو پہلے کھانا کھا لو اور نماز کے لئے جلدی نہ کرو کھانے سے فراغت کر لو۔
تشریح : ان احادیث کا مقصد اتنا ہی ہے کہ بھوک کے وقت اگر کھانا تیار ہو، تو پہلے اس سے فارغ ہونا چاہیے تاکہ نماز پورے سکون کے ساتھ ادا کی جائے اور دل کھانے میں نہ لگا رہے۔ اور یہ اس کے لیے ہے جسے پہلے ہی سے بھوک ستا رہی ہو۔ (راز) جسے بھوک نہ لگی ہو، اس کو چاہیے کہ نماز ادا کرنے کے بعد کھانا کھا لے۔ بلاوجہ کی رخصت تلاش نہ کرے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 42 باب إذا حضر الطعام وأقيمت الصلاة ان احادیث کا مقصد اتنا ہی ہے کہ بھوک کے وقت اگر کھانا تیار ہو، تو پہلے اس سے فارغ ہونا چاہیے تاکہ نماز پورے سکون کے ساتھ ادا کی جائے اور دل کھانے میں نہ لگا رہے۔ اور یہ اس کے لیے ہے جسے پہلے ہی سے بھوک ستا رہی ہو۔ (راز) جسے بھوک نہ لگی ہو، اس کو چاہیے کہ نماز ادا کرنے کے بعد کھانا کھا لے۔ بلاوجہ کی رخصت تلاش نہ کرے۔