كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب جواز الصلاة في النعلين صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ الأَزْدِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ: نَعَمْ
کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب: جوتیاں پہن کر نماز پڑھنے کا بیان
سعید بن یزید ازدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں۔
تشریح :
سنن ابوداود اور مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کے خلاف کرو۔ وہ جوتیوں میں نماز پڑھتے۔ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز میں جوتے اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نعل عربوں کا ایک خاص جوتا ہے۔ ان عام جوتوں میں نماز جائز نہیں۔ خواہ وہ پاک صاف بھی ہوں۔ دلائل کی رو سے ایسا کہنا صحیح نہیں ہے۔ جوتوں میں نماز بلا کراہت جائز اور درست ہے بشرطیکہ وہ پاک اور صاف ستھرے ہوں۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 24 باب الصلاة في النعال
سنن ابوداود اور مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کے خلاف کرو۔ وہ جوتیوں میں نماز پڑھتے۔ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز میں جوتے اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نعل عربوں کا ایک خاص جوتا ہے۔ ان عام جوتوں میں نماز جائز نہیں۔ خواہ وہ پاک صاف بھی ہوں۔ دلائل کی رو سے ایسا کہنا صحیح نہیں ہے۔ جوتوں میں نماز بلا کراہت جائز اور درست ہے بشرطیکہ وہ پاک اور صاف ستھرے ہوں۔ (راز)