كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب جواز لعن الشيطان في أثناء الصلاة صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلاَةَ، فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ (رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحدٍ مِنْ بَعْدِي) فَرَدَّهُ خَاسِئًا
کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان
باب: نماز کے اندر شیطان پر لعنت کرنا درست ہے
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گذشتہ رات ایک سرکش جن اچانک میرے پاس آیا وہ میری نماز میں خلل ڈالنا چاہتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے سوچا کہ مسجد کے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دوں تا کہ صبح کو تم سب بھی اسے دیکھو پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آ گئی اے میرے رب مجھے ایسا ملک عطا فرما دے جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو (ص۳۵) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شیطان کو ذلیل کے دھتکار دیا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 75 باب الأسير أو الغريم يربط في المسجد