اللولؤ والمرجان - حدیث 312

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب تحريم الكلام في الصلاة ونسخ ما كان من إِباحته صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ، يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ، حَتَّى نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا للهِ قَانِتِينَ) فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 312

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے اور اجازت منسوخ ہونے کا بیان سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پہلے ہم نماز پڑھتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے اپنی کسی ضرورت کے لئے بات کر لیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی سب ہی نمازوں کی پابندی رکھو اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں برداروں کی طرح کھڑے ہوا کرو (البقرہ۲۳۸) اس آیت کے ذریعہ ہمیں نماز میں چپ رہنے کا حکم دیا گیا۔
تشریح : راوي حدیث: سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمر یا ابو عامر تھی۔ احد کے موقعہ پر چھوٹے تھے۔ اس لیے خندق میں پہلی مرتبہ میدان میں آئے۔ سترہ غزوات میں حصہ لیا۔ آنکھیں دکھتی تھیں جس کی وجہ سے نظر نہیں آتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے آنکھیں درست کر دی تھیں۔ ۶۶یا ۶۸ ہجری کو کوفہ میں وفات پائی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 2 سورة البقرة: 43 باب وقوموا لله قانتين أي مطيعين راوي حدیث: سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمر یا ابو عامر تھی۔ احد کے موقعہ پر چھوٹے تھے۔ اس لیے خندق میں پہلی مرتبہ میدان میں آئے۔ سترہ غزوات میں حصہ لیا۔ آنکھیں دکھتی تھیں جس کی وجہ سے نظر نہیں آتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے آنکھیں درست کر دی تھیں۔ ۶۶یا ۶۸ ہجری کو کوفہ میں وفات پائی۔