اللولؤ والمرجان - حدیث 302

كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب تحويل القبلة من القدس إلى الكعبة صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنَّ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَأنْزَلَ اللهُ (قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ) فتَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ وَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ، وَهُمُ الْيَهُودُ مَا وَلاَّهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ للهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ منَ الأَنْصَارِ فِي صَلاَةِ الْعَصْرِ يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ تَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ؛ فَتَحَرَّفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوجَّهُوا نَحْوَ الْكَعْبَةِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 302

کتاب: مسجدوں اور نمازوں کی جگہوں کا بیان باب: بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ کا تبدیل ہونا سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ سال تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دل سے) چاہتے تھے کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہم آپ کا آسمان کی طرف بار بار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں (البقرہ۱۴۴) پھر آپ نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا اور احمقوں نے جو یہودی تھے کہنا شروع کیا کہ انہیں اگلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی کی ملکیت ہے مشرق بھی اور مغرب بھی اللہ جس کو چاہتا ہے (جب قبلہ بدلا تو)ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی‘ پھر نماز کے بعد وہ چلے اور انصار کی ایک جماعت پر ان کا گذر ہوا جو عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پھڑ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ نماز پڑھی ہے جس میں آپ نے موجود قبلہ (کعبہ) کی طرف منہ کرے نماز پڑھی ہے۔ پھر وہ جماعت(نماز کے دوران ہی) مڑ گئی اور کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 31 باب التوجه نحو القبلة حيث كان