كتاب الصلاة باب الاعتراض بين يدي المصلي صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلاَيَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: والْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: نماز کے سامنے لیٹے رہنے کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جایا کرتی تھی میرے پاؤں آپ کے سامنے (پھیلے ہوئے) ہوتے جب آپ سجدہ کرتے تو پاؤں کو ہلکے سے دبا دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی پھر جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اس زمانہ میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 104 باب التطوع خلف المرأة