اللولؤ والمرجان - حدیث 289
كتاب الصلاة باب الاعتراض بين يدي المصلي صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ
ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 289
کتاب: نماز کے مسائل
باب: نماز کے سامنے لیٹے رہنے کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ کے سامنے) بچھونے پر آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 103 باب الصلاة خلف النائم