كتاب الصلاة باب سترة المصلي صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلاَمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنَى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكَرْ ذلِكَ عَلَيَ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: نمازی کے سترہ کا بیان
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ٗ کہ میں(ایک مرتبہ) گدھی پر سوار ہو کر چلا، اس زمانے میں‘ بلوغ کے قریب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اور آپ کے سامنے دیوار (کی آڑ ) نہ تھی۔ میں بعض صفوں کے سامنے سے گذرا ‘ اور گدھی کو چھوڑ دیا۔ وہ چرنے لگی‘ اور میں نماز( نماز کے لیے) صف میں داخل ہو گیا(مگر) کسی نے مجھے اس بات پر ٹوکا نہیں۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 18 باب متى يصح سماع الصغير