كتاب الصلاة باب ما يجمع صفة الصلاة وما يفتتح به ويختم به صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: نماز کی صفت کی جامعیت اور جس سے نماز شروع اور ختم کی جاتی ہے اس کا بیان
سیّدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی۔
تشریح :
راوي حدیث: سیّدنا عبداللہ بن مالک بن قشب رضی اللہ عنہ بحینہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ہے۔ ابتدائی دور کے مسلمان ہیں۔ بڑے عبادت گزار، فاضل اور صائم الدھر تھے۔ مدینہ منورہ سے تیس میل کے فاصلے پر ریم جگہ پر قیام فرما تھے۔ مدینہ پر مروان کی اخیر امارت میں ۵۶ہجری میں وفات پائی۔
تخریج :
أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 27 باب يبدي ضَبْعيه ويجافي في السجود
راوي حدیث: سیّدنا عبداللہ بن مالک بن قشب رضی اللہ عنہ بحینہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ہے۔ ابتدائی دور کے مسلمان ہیں۔ بڑے عبادت گزار، فاضل اور صائم الدھر تھے۔ مدینہ منورہ سے تیس میل کے فاصلے پر ریم جگہ پر قیام فرما تھے۔ مدینہ پر مروان کی اخیر امارت میں ۵۶ہجری میں وفات پائی۔