اللولؤ والمرجان - حدیث 275

كتاب الصلاة باب ما يقال في الركوع والسجود صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَلُ الْقُرْآنَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 275

کتاب: نماز کے مسائل باب: رکوع اور سجدہ میں کیا پڑھنا چاہیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اوررکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے سبحانك اللھم ربنا و بحمدك اللھم اغفرلی (اس دعا کو پڑھ کر) آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔
تشریح : سورۂ نصر کے حکم (اپنے رب کی پاکی بیان کر اور اس سے بخشش مانگ) کی روشنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں مذکورہ دعا پڑھا کرتے تھے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اے اللہ تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں، اے اللہ! تو مجھ کو بخش دے۔‘‘ اس دعا میں تسبیح، تحمید اور استغفار تینوں موجود ہیں۔ اس لیے رکوع اور سجدے میں اس کا پڑھنا افضل ہے۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 139 باب التسبيح والدعاء في السجود سورۂ نصر کے حکم (اپنے رب کی پاکی بیان کر اور اس سے بخشش مانگ) کی روشنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں مذکورہ دعا پڑھا کرتے تھے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اے اللہ تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں، اے اللہ! تو مجھ کو بخش دے۔‘‘ اس دعا میں تسبیح، تحمید اور استغفار تینوں موجود ہیں۔ اس لیے رکوع اور سجدے میں اس کا پڑھنا افضل ہے۔ (راز)