اللولؤ والمرجان - حدیث 273

كتاب الصلاة باب اعتدال أركان الصلاة وتخفيفها في تمام صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: إِنِّي لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّي بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ ثَابِتٌ (راوي هذَا الْحَدِيثِ) كَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ؛ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، حَتَّى يَقولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 273

کتاب: نماز کے مسائل باب: نماز میں تمام ارکان اعتدال سے پورے کرنے اور نماز کو ہلکا پڑھنے کا بیان سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں ثابت (حدیث کے راوی) نے بیان کیا کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ یک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔
تشریح : حضرت امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صد افسوس کہ لوگوں نے اس سنت کو جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، چھوڑ رکھا ہے حتیٰ کہ ان کے محدث، فقیہ، مجتہد اور مقلد سب ہی اس سنت کے تارک نظر آتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے لیے ان لوگوں نے کون سا بہانہ بنا رکھا ہے۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 140 باب المكث بين السجدتين حضرت امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صد افسوس کہ لوگوں نے اس سنت کو جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، چھوڑ رکھا ہے حتیٰ کہ ان کے محدث، فقیہ، مجتہد اور مقلد سب ہی اس سنت کے تارک نظر آتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے لیے ان لوگوں نے کون سا بہانہ بنا رکھا ہے۔ (راز)