كتاب الصلاة باب أمر الأئمة بتخفيف الصلاة في تمام صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَاللهِ لأَتأَخَّرُ عَنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ: يأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ؛ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُوجِزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: امام کے لیے نماز کو مکمل لیکن ہلکا پڑھنے کا حکم
سیّدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کی قسم صبح کی جماعت میں فلاں (معاذ بن جبل یا ابی بن کعب) کی وجہ سے شرکت نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ اس نماز کو بہت لمبی کر دیتے ہیں ابو مسعود نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت کے وقت اس سے زیادہ غضب ناک ہوتا کبھی نہیں دیکھا جیسا کہ آپ اس دن تھے پھر آپ نے فرمایا اے لوگو تم میں سے بعض نمازیوں کو نفرت دلانے والے ہیں پس تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے اختصار کرنا چاہئے کیونکہ جماعت میں بوڑھے بچے اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 13 باب هل يقضي الحاكم أو يفتي وهو غضبان