كتاب الصلاة باب القراءة في الصبح والمغرب صحيح حديث أُمِّ الْفَضْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ (وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا) فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ وَاللهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: فجر اور مغرب کی نماز میں قرات کا بیان
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ام فضل (ان کی ماں) نے انہیں والمرسلات عرفا پڑھتے ہوئے سنا پھر کہا کہ اے بیٹے تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلا دیا آخر عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں میں یہی سورت پڑھتے ہوئے سنتی تھی۔
تشریح :
راوي حدیث: سیدہ ام الفضل کا نام لبابہ بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا ہے، آپ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس تشریف لاتے تھے اور قیلولہ کیا کرتے تھے۔ یہی وہ خاتون ہیں جنہوں نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی جو آخری نماز پڑھائی اس میں سورۂ والمرسلات پڑھی تھی۔ ۳۰ احادیث روایت کی ہیں۔
تخریج :
أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 98 باب القراءة في المغرب
راوي حدیث: سیدہ ام الفضل کا نام لبابہ بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا ہے، آپ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس تشریف لاتے تھے اور قیلولہ کیا کرتے تھے۔ یہی وہ خاتون ہیں جنہوں نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی جو آخری نماز پڑھائی اس میں سورۂ والمرسلات پڑھی تھی۔ ۳۰ احادیث روایت کی ہیں۔