كتاب الصلاة باب خروج النساء إِلى المساجد إِذا لم يترتب عليه فتنة وأنها لا تخرج مطيبة صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسَاجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: بزمانہ امن خواتین کو مساجد میں جانے کی اجازت اور خوشبو لگا کر باہر نکلنے کے ممانعت
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ آج عورتوں میں جو نئی باتیں پیدا ہو گئی ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ لیتے تو ان کو مسجد میں آنے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔
تشریح :
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے یہ نہیں نکلتا کہ ہمارے زمانے میں عورتوں کو مسجد میں جانا منع ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ زمانہ پایا نہ منع کیا اور شریعت کے احکام کسی کے قیاس اور رائے سے نہیں بدل سکتے۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 163 باب انتظار الناس قيام الإمام العالم
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے یہ نہیں نکلتا کہ ہمارے زمانے میں عورتوں کو مسجد میں جانا منع ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ زمانہ پایا نہ منع کیا اور شریعت کے احکام کسی کے قیاس اور رائے سے نہیں بدل سکتے۔ (راز)