كتاب الصلاة باب تسوية الصفوف وإقامتها صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: صفوں کو برابر کرنے اور ان کو قائم رکھنے کا بیان
سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز میں اپنی صفوں کو برابر کر لو نہیں تو خداوند تعالیٰ تمہارے منہ الٹ دے گا۔
تشریح :
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے ان احادیث کے ظاہر سے یہ کہا ہے کہ صفیں برابر کرنا واجب ہے اور جمہور علماء کے نزدیک سنت ہے۔ برابر رکھنے سے یہ غرض ہے کہ ایک خط مستقیم پر کھڑے ہوں۔ آگے پیچھے نہ کھڑے ہوں۔ (وحید الزمان رحمہ اللہ )
تخریج :
أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 71 باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے ان احادیث کے ظاہر سے یہ کہا ہے کہ صفیں برابر کرنا واجب ہے اور جمہور علماء کے نزدیک سنت ہے۔ برابر رکھنے سے یہ غرض ہے کہ ایک خط مستقیم پر کھڑے ہوں۔ آگے پیچھے نہ کھڑے ہوں۔ (وحید الزمان رحمہ اللہ )