كتاب الصلاة باب الأمر بتحسين الصلاة وإِتمامها والخشوع فيها صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي ههُنَا فَوَاللهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلاَ رُكُوعُكْم، إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي
کتاب: نماز کے مسائل
باب: دل لگا کر اچھی طرح نماز پڑھنے کے احکام
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا خیال ہے کہ میرا منہ (نماز میں) قبلہ کی طرف ہے خدا کی قسم مجھ سے نہ تمہارا خشوع چھپتا ہے نہ رکوع میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھتا رہتا ہوں۔
تشریح :
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں حقیقتاً دیکھنا مراد ہے۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے کہ آپ پشت کی طرف کھڑے ہوئے لوگوں کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: كتاب الصلاة: 40 باب عظة الإمام بالناس في إتمام الصلاة وذكر القبلة
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں حقیقتاً دیکھنا مراد ہے۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے کہ آپ پشت کی طرف کھڑے ہوئے لوگوں کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔ (راز)