كتاب الصلاة باب استخلاف الإمام إِذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَخْرُجِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ؛ فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا، فَأَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ، فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: امام کو اگر بیماری یا سفر وغیرہ کا عذر ہو تو وہ نماز پڑھانے کے لیے اپنا نائب مقرر کرے
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایام بیماری میں) تین دن باہر تشریف نہیں لائے ان ہی دنوں میں ایک دن نماز قائم کی گئی سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گے بڑھنے کو تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجرہ مبارک کا) پردہ اٹھایا جب نبیا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دکھائی دیا تو آپ کے روئے پاک و مبارک سے زیادہ حسین منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا (قربان اس حسن و جمال کے) پھر آپ نے سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھنے کے لئے اشارہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور اس کے بعد وفات تک کوئی آپ کو دیکھنے پر قادر نہ ہو سکا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 46 باب أهل العلم والفضل أحق بالإمامة