كتاب الصلاة باب استخلاف الإمام إِذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ، وَصَحْبَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكمْ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: امام کو اگر بیماری یا سفر وغیرہ کا عذر ہو تو وہ نماز پڑھانے کے لیے اپنا نائب مقرر کرے
سیّدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور صحابی تھے نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے تھے پیر کے دن جب لوگ نماز میں صف باندھے کھڑے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ کا پردہ ہٹائے کھڑے ہوئے ہماری طرف دیکھ رہے تھے آپ کا چہرہ مبارک (حسن و جمال اور صفائی میں) گویا مصحف کا ورق تھا آپ مسکرا کر ہنسنے لگے ہمیں اتنی خوشی ہوئی کہ خطرہ ہو گیا کہ کہیں ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے ہی میں مشغول نہ ہو جائیں اور نماز توڑ دیں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف کے ساتھ آنا چاہتے تھے انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لا رہے ہیں لیکن آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ نماز پوری کر لو پھر آپ نے پردہ ڈال دیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اسی دن ہو گئی۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)
تخریج : أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 46 باب أهل العلم والفضل أحق بالإمامة