كتاب الصلاة باب التسميع والتحميد والتأمين صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
کتاب: نماز کے مسائل
باب: سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا لک الحمد اور آمین کہنے کا حکم
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین، کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ آمین کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
تشریح :
لفظ آمین کے معنی یہ ہیں کہ ’’اے اللہ! میں نے جو دعائیں تجھ سے کی ہیں ان کو قبول فرمائیے۔‘‘ یہ لفظ یہود ونصاریٰ میں بھی مستعمل رہا اور اسلام میں بھی اسے استعمال کیا گیا۔ جہری نمازوں میں اس کا زور سے کہنا کوئی امر قبیح نہ تھا مگر افسوس کہ بعض علماء سوء نے رائی کا پہاڑ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سر پھٹول ہوئی اور عرصہ کے لیے دلوں میں کاوش پیدا ہوگئی۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 113 باب جهر المأموم بالتأمين
لفظ آمین کے معنی یہ ہیں کہ ’’اے اللہ! میں نے جو دعائیں تجھ سے کی ہیں ان کو قبول فرمائیے۔‘‘ یہ لفظ یہود ونصاریٰ میں بھی مستعمل رہا اور اسلام میں بھی اسے استعمال کیا گیا۔ جہری نمازوں میں اس کا زور سے کہنا کوئی امر قبیح نہ تھا مگر افسوس کہ بعض علماء سوء نے رائی کا پہاڑ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سر پھٹول ہوئی اور عرصہ کے لیے دلوں میں کاوش پیدا ہوگئی۔ (راز)