كتاب الحيض باب التيمم صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْض أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، أَوْ، بِذَاتِ الْجَيْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي؛ فَأَقَام رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ؛ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا: أَلاَ تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ؛ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَعاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقولَ، وَجَعَلَ يطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَتَيمَّمُوا؛ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبي بَكْرِ قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَأَصَبْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
کتاب: حیض کے مسائل
باب: تیمم کا بیان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ بنی المصطلق) میں تھے جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار کھو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہیں ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے لیکن وہاں پانی کہیں قریب میں نہ تھا لوگ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا سیدہ عائشہ ( رضی اللہ عنہا) نے کیا کام کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے اور پانی بھی کہیں قریب میں نہیں ہے اور نہ لوگوں ہی کے ساتھ ہے پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری زانو پر رکھے ہوئے سو رہے تھے فرمانے لگے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو روک لیا حالانکہ قریب میں کہیں پانی بھی نہیں ہے اور نہ لوگوں کے پاس ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ والد ماجد ( رضی اللہ عنہا) مجھ پر بہت خفا ہوئے اور اللہ نے جو چاہا انہوں نے مجھے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچو کے لگائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا اس وجہ سے میں حرکت بھی نہیں کر سکتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کے وقت اٹھے تو پانی کا پتہ تک نہ تھا پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری اور لوگوں نے تیمم کیا اس پر اسید بن حضیر نے کہا اے آل ابی بکریہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے سیدہ عائشہ ( رضی اللہ عنہا) نے فرمایا پھر ہم نے اس اونٹ کو ہٹایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: كتاب التيمم: 1 باب حدثنا عبد الله بن يوسف