كتاب الحيض باب الدليل على أن من تيقن الطهارة ثم شك في الحدث فله أن يصلي بطهارته صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلاَةِ، فَقَالَ: لاَ يَنْفَتِلْ أَوْ لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا
کتاب: حیض کے مسائل
باب: جس شخص کو طہارت کا یقین ہو پھر اس میں شک ہو تو وہ اس وضو میں نماز پڑھ سکتا ہے
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز (یعنی ہوا نکلتی ہوئی) معلوم ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نماز سے) نہ پھرے یا نہ مڑے، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 4 باب لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن