كتاب الحيض باب إِنما الماء من الماء صحيح حديث عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه، قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ فَلَمْ يُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ: يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ؛ قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کتاب: حیض کے مسائل
باب: پانی کا استعمال پانی نکلنے سے پہلے ہے
زید بن خالد رحمہ اللہ نے سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص صحبت کرے اور منی نہ نکلے۔ فرمایا وضو کرے جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے، اور اپنے عضو کو دھو لے۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (یہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
تشریح :
یہ سب روایات ابتدائی عہد سے متعلق ہیں۔ اب صحبت کے بعد غسل فرض ہے خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امت کا اجماع ہے کہ جماع کرنے سے غسل واجب ہوتا ہے منی نکلے یا نہ نکلے۔ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی حق وصواب ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ج۱ ص ۱۰۰، راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 34 باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين
یہ سب روایات ابتدائی عہد سے متعلق ہیں۔ اب صحبت کے بعد غسل فرض ہے خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امت کا اجماع ہے کہ جماع کرنے سے غسل واجب ہوتا ہے منی نکلے یا نہ نکلے۔ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی حق وصواب ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ج۱ ص ۱۰۰، راز)