كتاب الحيض باب الاعتناء بحفظ العورة صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ؛ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَللْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ؛ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذلِكَ عُرْيانًا/ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کتاب: حیض کے مسائل
باب: ستر ڈھانپنے میں احتیاط رکھنا
سیّدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نبوت سے پہلے) کعبہ کی تعمیر کے لئے قریش کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھے اس وقت آپ تہبند باندھے ہوئے تھے آپ کے چچا سیّدناعباس نے کہا کہ بھتیجے کیوں نہیں تم تہبند کھول لیتے اور اسے پتھر کے نیچے اپنے کاندھے پر رکھ لیتے (تا کہ تم پر آسانی ہو جائے) سیّدناجابر نے کہا کہ آپ نے تہبند کھول لیا اور کاندھے پر رکھ لیا اسی وقت غش کھا کر گر پڑے اس کے بعد آپ کبھی ننگے نہیں دیکھے گئے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 8 باب كراهية التعري في الصلاة وغيرها