اللولؤ والمرجان - حدیث 194

كتاب الحيض باب جواز الاغتسال عريانًا في الخلوة صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ؛ فَقَالُوا وَاللهِ مَا يَمْنَعُ مُوسى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلاَّ أَنَّهُ آدَرُ، فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَخَرَجَ مُوسى فِي إِثْرِهِ يَقُولُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائيلَ إِلَى مُوسى، فَقَالُوا وَاللهِ مَا بِمُوسى مِنْ بَأْسٍ؛ وَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبًا بِالْحَجَرِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 194

کتاب: حیض کے مسائل باب: تنہائی میں ننگے نہانا درست ہے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن جناب موسیٰ علیہ السلام تنہا (پردہ سے) غسل فرماتے اس پر انہوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے آپ کہتے جاتے تھے اے پتھر میرا کپڑا دے اے پتھر میرا کپڑا دے اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 20 باب من اغتسل عريانًا وحده في الخلوة