كتاب التفسير باب التفسير صحيح حديث الْبَرَاءِ رضي الله عنه، قَالَ: نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ فِينَا كَانَتِ الأَنْصَارُ، إِذَا حَجُّوا فَجَاءُوا، لَمْ يَدْخُلُوا مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ، وَلكِنْ مِنْ ظُهُورِهَا فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ قِبَلِ بَابِهِ، فَكَأَنَّهُ عُيِّرَ بِذلِكَ، فَنَزَلَتْ (وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا)
کتاب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر
باب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی انصار جب حج کے لیے آتے تو (احرام کے بعد) گھروں میں دروازوں سے نہیں جاتے تھے، بلکہ دیواروں سے کود کر (گھر کے اندر) داخل ہو ا کرتے تھے۔ پھر اسلام لانے کے بعد ایک انصاری شخص آیا اور دروازے سے گھر میں داخل ہو گیا، اس پر لوگوں نے لعنت ملامت کی تو یہ وحی نازل ہوئی کہ ’’یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ گھروں میں پیچھے سے (دیواروں پر چڑھ کر) آؤ، بلکہ نیک وہ شخص ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔‘‘
تخریج : أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 18 باب قول الله تعالى (وأتوا البيوت من أبوابها)