اللولؤ والمرجان - حدیث 1901

كتاب التفسير باب التفسير صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنه (وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا) قَالَ: كَانَ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ، فَلَحِقَهُ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غُنَيْمَتَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ، إِلَى قَوْلِهِ (عَرَضَ الْحَياةِ الدُّنْيَا) تِلْكَ الْغُنَيْمَةُ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1901

کتاب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر باب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے آیت ’’اور جو تمہیں سلام کرتا ہو اسے یہ مت کہہ دیا کرو کہ تو تو مومن ہی نہیں ہے۔‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ ایک صاحب (مرداس نامی) اپنی بکریاں چرا رہے تھے، ایک مہم پر جاتے ہوئے کچھ مسلمان انہیں ملے تو انہوں نے کہا ’’السلام علیکم‘‘ لیکن مسلمانوں نے بہانہ خور جان کر انہیں قتل کر دیا اور ان کی بکریوں پر قبضہ کر لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی آخر آیت ’’عرض الحیاۃ الدنیا‘‘ سے اشارہ انہی بکریوں کی طرف تھا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 17 باب ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنًا