كتاب التفسير باب التفسير صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ أَبْزَى: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى (وَمَنْ [ص:334] يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ) ، وَقَوْلِهِ (وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ) حَتَّى بَلَغَ (إِلاَّ مَنْ تَابَ) فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ: فَقَدْ عَدَلْنَا بِاللهِ وَقَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللهُ (إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا) إلى قَوْلِهِ (غَفُورًا رَحِيمًا)
کتاب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر
باب: قرآن حکیم کی چند آیتوں کی تفسیر
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے آیت ’’اور جو کوئی کسی مومن کو جان کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے‘‘(النساء:۹۳) اور سورۂ فرقان کی آیت ’’اور جس انسان کی جان مارنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے ساتھ‘‘ الامن تاب و آمن تک، (میں نے اس آیت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نیفرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ پھر تو ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا ہے اور ناحق ایسے قتل بھی کیے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ’’مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، اللہ بہت بخشنے والا بڑا ہی مہربان ہے۔ (الفرقان: ۷۰)
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 25 سورة الفرقان: 3 باب يضاعف له العذاب يوم القيامة